لکھنؤ،15؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) مہنگائی، نظم ونسق، روزگار کے مطالبے و گنا بقایا جات کی ادائیگی سمیت 16 نکاتی مطالبات کے ساتھ سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے جمعرات کو ریاست گیر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ریاست کے 75 اضلاع میں تقریباً 350 تحصیلوں پر ہوئے اس احتجاجی مظاہرے کے دوران ایس پی کارکنوں نے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔ اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ کچھ ایک مقامات پر پولیس اور ایس پی کارکنوں کے درمیان معمولی جھڑپ بھی ہوئی۔
پارٹی کے قومی ترجمان ڈاکٹر آشوتوش ورما نے بتایا کہ ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ ہم بڑھتی مہنگائی، روزگار، خستہ حال نظم ونسق و اترپردیش حکومت کی خراب حکمرانی کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔ یہ ریاست گیر مظاہرہ اس کا آغاز ہے۔ ساتھ ہی یہ احتجاج انتظامیہ کا استعمال کر کے بلاک پرمکھ و ضلع پنچایت صدر کے انتخابات کو جیتنے والی بی جے پی حکومت کی خراب حکمرانی کو اجاگر کرنے کے لئے بھی ہے۔ ڈاکٹر ورما نے کہا کہ یہ پیغام ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو یہ کہا کرتے تھے کہ ایس پی زمین پر نہیں اترتی۔ آج وہ آکر دیکھ سکتے ہیں کہ اگر ریاست میں کوئی زمینی پارٹی ہے تو وہ ایس پی ہے۔ ایس پی ہمیشہ عوام کے مفادات کے لئے لڑتی رہی ہے۔
سہارنپور سے موصول رپورٹ کے مطابق ضلع میں سبھی پانچ تحصیلوں پر زبردست احتجاجی مظاہرہ اور گورنر کے نام میمورنڈم سونپا گیا۔ سہارنپور تحصیل میں احتجاج کی قیادت مہانگر ایم ایل اے سنجے گرگ نے کی جبکہ نکڑ تحصیل ہیڈکوارٹر پر احتجاج کی سربراہی ضلع صدر چودھری رودر سین نے کی۔
پرتاپ گڑھ میں پنچایت انتخابات میں کی گئی مبینہ دھاندھلی اور سماج وادی پارٹی کے کارکنوں پر فرضی مقدمے قائم کیے جانے کے خلاف پارٹی کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی لیڈر سنجے پانڈے کی قیادت میں کارکنوں نے صدر تحصیل پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے گورنر کے نام میمورنڈم کو ایس ڈی ایم صدر موہن لال گپتا کے حوالے کیا۔